Skip to main content

How to educate a child: (Article written in Urdu)-)

آج کل والدین اور اساتذہ دونو ں بچوں کے بارے میں عموماً جو شکایت کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ بچوں میں اب پڑھائی کا شوق نہیں ہے۔ بچے اِدھر اُدھرکی مشغولیت میں لگے رہتے ہیں اور پڑھائی پر کم توجہ دیتے ہیں۔ گویا بچوں میں پڑھائی کا شوق پیدا کرنا ایک بڑے مسئلے کی صورت میں ابھر کر سامنے آ رہا ہے جس کا سامنا بالخصوص اساتذہ اور والدین کو کرنا پڑتا ہے۔ ذیل میں ہم بچوں میں تعلیم کے لیے رغبت اور ان میں پڑھائی کا شوق پیدا کرنے کی کچھ تجاویز قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔

اگر کسی انسان کو اس کے اختیار اور مرضی کو دبائیں گے تو اس کی خودی، شوق اور فکری نشوونما بری طرح متاثر ہو گی۔ اس لیےشوق اور اختیار کے بغیر بہترین کتابیں، اچھے اساتذہ اور اعلیٰ معیار کے اداروں کی چمک بھی بچے کو پڑھنے اور کام کرنے پر آمادہ نہیں کر سکتی۔ جس طرح بھوک، پیاس انسان کا فطری داعیہ ہے اسی طرح بھی شوق ایک فطری داعیہ ہے۔ انسان میں شوق کا داعیہ ودیعت بھی کیا گیا ہے اور وہ خارجی فطرت سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ بچہ صرف ذہانت اور استعداد کی بنیاد پر کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک اس کے اندر دل چسپی، اشتیاق اور رغبت کی دولت نہ ہو۔ استاد بچوں میں ترغیب، شوق اور دل چسپی پیدا کرنے کے لیے بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔ کمرا جماعت میں ہر بچے کو اس کے مزاج اور رجحان کی بنیاد پر اس کی پڑھائی، محنت اور آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرنا استاد کی ذمہ داری ہے۔ اگرچہ یہاں ہم ان پہلوؤں کا تذکرہ کر رہے ہیں جو بچوں میں شوق پیدا کرنے میں ممد و معاون ہوں گے لیکن ساتھ ان باتوں کا بھی تذکرہ کریں گے جن سے شوق ختم ہو جاتا ہے۔

خود اعتمادی اور ضبط نفس (سیلف کنٹرول) سکھائیے
بچے چھوٹی عمر میں ہر کام خود کرنے کا شوق رکھتے ہیں، جب وہ بڑے ہوتے ہیں تو ہم ان پر اپنی مرضی تھوپ کر ان کے اختیار کا حق چھین لیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے اندر شوق مر جاتا ہے۔ اس لیے بچوں کو بڑی عمر میں بھی ان کی مرضی اور اختیار سے کام کرنے کا موقع دیجیے۔ بچوں کو خود کام کرنے کی تربیت دیجیے۔ ان کو سکھائیے کہ غصہ پر کیسے قابو پایا جاتا ہے، کسی کی مدد کرنے کے کون کون سے مواقع ہو سکتے ہیں اور دوسروں کی عزت نفس کیا خیال کیسے رکھا جاتا ہے۔

ڈر کے آگے جیت ہے
خوف یا ڈر انسان کے شوق کا قاتل اور آگے بڑھنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ آپ بچوں کو ڈرا دھمکا کر ان میں پڑھنے لکھنے کی عادت تو ڈال سکتے ہیں لیکن ان کا شوق مر جاتا ہے، وہ جلد پڑھنے لکھنے سے بیزار ہو جاتے ہیں۔ محفوظ اور دوستانہ ماحول بچوں کی صلاحیتوں کے اظہار اور پڑھائی میں دل چسپی کے لیے از حد ضروری ہے۔ ان پر تدریسی حملہ مت کیجیے، تدریسی انداز میں جدت اور تنوع پیدا کیجیے۔ ان کے لیے جلاد مت بنیے۔ ایسا نہ ہو کہ ایک دن وہ آپ کو دیکھتے ہی رستہ بدل لیں۔

باہر کی دنیا سے واقف کرائیے
کمرا جماعت سیکھنے سکھانے کی بہترین جگہ ہے، لیکن روزانہ کمرا جماعت میں آنا جانا اور سارا دن ڈیسک پر گزارنا بعض اوقات بیزاری سبب بنتا ہے۔ بچوں کو باہر کی دنیا سے بھی آشنا کیجیے، خاص طور پر سائنس اور سماج کی سمجھ بوجھ کے لیے کمرا جماعت سے باہر جا کر سمجھائیے، اس طرح وہ زیادہ بہتر طور سمجھ پائیں گے۔ اس مقصد کے لیے چڑیا گھر، پارک، تاریخی مقامات یا نمائش کا فیلڈ ٹرپ، لائبریریوں کا دورہ اور کھیلوں کے مقابلوں (میچز) وغیرہ میں شرکت سے ان کے مشاہدے کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا اور مطالعے کا شوق پیدا ہو گا۔ انسانی ذہن تجسس کو پسند کرتا ہے، منظر بدلیں گے تو ذہن کے بند دریچے کھلیں گے اور بچوں میں شوق اور خواہش میں اضافہ ہو گا۔ خارجی فطرت سے تعامل یا نیچر تھراپی اندرونی فطرت کی طمانیت اور ذہنی شفا کا درجہ رکھتی ہے۔

انعام دو شوق بڑھاؤ
ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی کارکردگی پر اسے سراہا اور اس کے کام کی قدر کی جائے۔ بچوں کو انعامات دینا بہتر نتائج حاصل کرنے کا کارگر طریقہ ہے۔ ہم چھوٹی عمر میں تو ان کو انعامات کا لالچ دیتے ہیں لیکن جب وہ بڑے ہو جاتے ہیں تو اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالاں کہ ہر عمر کے بچے کو اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ کوئی مہنگی چیز کا انتخاب کیا جائے، شاباش کے چند جاندار الفاظ، ان کی نوٹ بک پر ستارے یا پھول بنا کر تبصرہ لکھنا، کمرا جماعت میں پارٹی اور تالیاں بجانا بھی کافی ہے۔ لیکن صورت حال اور بچے کی شخصیت کے مطابق انعام کا تعین کیا جائے۔

احساس ذمہ داری سکھائیے
بچے ہمیشہ بڑوں کو دیکھ کر کام کرتے ہیں، کمرا جماعت میں بچوں کو مختلف ذمہ داریاں تقسیم کیجیے، یہ ان کے سماجی کردار کو تعمیر کرنے اور شوق اور تحریک کے جذبے میں اضافہ کرنے کا سبب بنے گا۔ اکثر بچے کمرا جماعت کی ذمہ داریوں کو بوجھ کے بجائے اعزاز سمجھتے ہیں اور اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کو قائدانہ سرگرمیاں دیجیے جیسے جماعت کی مختلف کمیٹیاں بنائیے، دوسروں کی مدد کرنا اور ان کے مسائل حل کرنے کی تربیت دیجیے۔ اس سے بچوں میں اپنی اہمیت اور قدر کا احساس پیدا ہو گا۔

شاباش کے دو بول
شوق پیدا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی اور شاباش دینے سے بہتر کوئی طریقہ نہیں ہو سکتا ہے۔ بچے ہر سطح پر حوصلہ افزائی اور سراہائے جانے کے طلب گار ہوتے ہیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ ان کی کامیابی کو لوگوں میں بیان کریں، ان کے کام پر شاباش دیں اور ان کے مثالی کام کو شیئر کریں۔

ہر دم تر و تازہ اور پرجوش رہیے
بعض اساتذہ سمجھتے ہیں کہ چہرے پر ہر وقت سنجیدگی اور سخت مزاجی سے بچوں کو سنبھالنا زیادہ آسان ہوتا ہے ورنہ بچے بگڑ جاتے ہیں۔ جس طرح حد سے زیادہ لاڈ پیار بچے کو بگاڑ دیتا ہے اسی طرح زبردستی اور سخت مزاجی سے بھی بچوں میں بیزاری پیدا ہوتی ہے کمرا جماعت میں خوشگوار موڈ اور جوش کا مظاہرہ کیجیے۔ اگر آپ دوران تدریس پرجوش رہیں گے تو بچے بھی آپ کو دیکھ کر تر و تازہ اور جوش و جذبے سے معمور ہوں گے۔

بچوں میں ذاتی ترغیب (موٹیویشن) پیدا کرنے میں مدد کیجیے
بچوں میں شوق پیدا کرنے کے لیے ان کی مدد کرنا قابل قدر ہے لیکن اصل کام ان میں داخلی شوق کو پروان چڑھانا ہے۔ کلاس روم سے نکلنے کے بعد بچے اپنی ذاتی شوق سے کام کر سکیں۔ چھوٹی عمر میں بچے بیرونی ترغیب کے بغیر وہ سب کام کرتے ہیں جنھیں کرتے ہوئے ہم بڑی عمر میں تردد کا شکار ہوتے ہیں جیسے وزن اٹھانا، جوتے پالش کرنا، کپڑے دھونا وغیرہ۔ یہ کام وہ اختیار اور مرضی سے کرتے ہیں اس لیے بچے میں اختیار کی موجودگی کا احساس مستقل رہنا چاہیے۔ اگر اچھے شوق کے باوجود اس سے اختیار چھین لیا جائے تو وہ بیزار ہو جاتا ہے اور زمانے کی بھیڑ چال میں رہنے میں عافیت سمجھتا ہے۔ اس لیے بچے کو اختیار اور شوق کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیں۔ جیسے وہ اپنی دل چسپی کا مواد تلاش کر سکے، اعلیٰ تعلیم کے لیے اپنے شوق کا میدان منتخب کر سکے اور علم سے محبت پیدا ہو وغیرہ، یہ آپ کی طرف سے بچوں کو بہترین تحفہ ہو گا۔

بچوں کو نفسیاتی مریض مت بنائیے
بعض بچے والدین اور اساتذہ کی طرف سے نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے پڑھنے میں اتنے مگن ہو جاتے ہیں کہ وہ خود کو اعلیٰ مخلوق سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ اعلیٰ نمبروں یا گریڈز کے لیے دن رات ایک کیے رہتے ہیں۔ اول آنے کی دُھن نے بچوں کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔ نمبر گیم کے گھن چکر میں بچہ امتحان جیت جاتا ہے کہ لیکن ہم بچے کو ہار بیٹھتے ہیں۔ بچوں یہ سمجھانے کی کوشش کیجیے کہ کسی ایک مضمون میں سخت محنت کرنا یا صرف گریڈز کی دوڑ ہی کامیابی کی علامت نہیں، وہ نتیجے کے بارے میں زیادہ فکر مند نہ ہوں، ایسا نہ ہو کہ وہ خود ساختہ توقعات پر پورا نہ اترنے پر مایوسی کی گھاٹیوں میں جا گریں۔

بڑے خواب ضرور دکھائیے لیکن جن کی تعبیر ممکن ہو
جس طرح بچوں کو صرف گریڈز اور اول آنے کی دوڑ کا عادی بنانا غیر مناسب اور نقصان دہ ہے اسی طرح بچوں کو اپنی کم سے کم بساط سے اونچے مقاصد کے حصول کے لیے تیار نہ کرنا بھی اپنے مقام سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہے۔ بچوں کو اتنا ڈھیلا اور بے پروا بھی نہ کیا جائے کہ وہ اپنی دنیا ہی گنوا بیٹھیں۔ بچوں کو چیلنجز سے نبٹنے اور اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے سخت محنت کا عادی بنائیے۔ بچوں کو بڑے اور باتعبیر خواب دکھانے سے خوف زدہ نہ ہوں۔

مسلسل نگرانی کیجیے
طلبہ کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ وہ کتنی بہتری اور ترقی کے درجے پر پہنچ چکے ہیں بالخصوص مشکل مضامین میں۔ اس لیے تعلیمی سرگرمیوں کی مسلسل ٹریکنگ یا نگرانی استاد اور طالب دونوں کے لیے مفید ہے۔ اس طرح سے استاد مسلسل طالب علم میں تحریک اور ترغیب میں اضافہ کرتا رہتا ہے، اور تعلیمی دورانیے میں وقفے وقفے سے طالب علم اپنی پراگریس کے مطابق پڑھائی میں دل چسپی برقرار رکھتا ہے۔

تفریح بھی ضروری ہے
بچوں میں شوق کو برقرار رکھنے کے لیے تفریح بھی بہت ضروری ہے۔ کمرا جماعت میں کھیلنا تو ممکن نہیں ہوتا لیکن کلاس روم میں خوشگوار اور تفریح کا ماحول ہو تو طلبہ کی توجہ اور دل چپسی بڑھتی ہے۔ کلاس روم میں تفریحی سرگرمیاں شامل کرنے سے کلاس روم کا ماحول مزید دوستانہ بنے گا، طلبہ میں محنت کرنے میں دل لگے گا اور شوق سے محنت کریں گے۔

کامیابی کے مواقع سے آگاہ کیجیے
اگر طلبہ کو یہ محسوس ہو کہ ان محنت رنگ نہیں لائے گی یا دوسرے طلبہ کی طرح ان کی کامیابیوں نہیں سراہا جا رہا تو ان کا الجھن اور بوریت کی طرف رجحان بڑھے گا۔ اس بات کو یقینی بنائیے کہ ہر بچے اپنی استعداد کو بروئے کار لا سکے، اس کی محنت اور کام کو اہمیت دی جائے اور اسے سراہا جائے۔ اس طرح ایسی دنیا تشکیل پائے گی جہاں شوق اور ترغیب کو جگہ ملے گی۔

Source: received through WhatsApp message

Popular posts from this blog

Beyond the Classroom Walls: Celebrating Our Group 4 Support Staff

 - "The greatness of a community is most accurately measured by the compassionate actions of its members." - Coretta Scott King In the bustling environment of our school, it's easy to focus on the academic achievements and the visible efforts of our teachers. But today, we want to shine a spotlight on the often-unsung heroes who play a vital role in creating a safe, nurturing, and functional learning space for our students: our incredible support staff. Think about it:  who greets our children with a warm smile and ensures their safety as they enter the school gates? Our security personnel.  Who keeps our classrooms and common areas clean and organized, creating a conducive learning environment? Our dedicated helpers.  Who provides tender care and assistance to our youngest learners? Our compassionate ayahs.  And who ensures our children arrive and depart safely each day? Our reliable drivers. These individuals, often working behind the scenes, contribute signif...

What can my child study other than engineering degree:

Very Thoughtful advice... Just because I am holding a senior position in HR, I have been getting many requests from my relatives, friends, acquaintances, to help their sons or daughters, who have freshly passed out from engineering college, to get job in my company. The number of requests are huge. So many fresh engineers are unemployed, I could hardly helped only few of them to get job in my very successful company or in some other companies where I have contacts. I feel bad to say NO to many of the requests or for those whom I can't help. They get disappointed... I can understand. Parents invest their life time earned money just to see their sons or daughters getting degree in engineering. They think that jobs are easily available for engineers. After interviewing many of them, I can't even tell them that your son or daughter do not even have minimum required technical knowledge. Getting first class or distinction has become so easy without having fundamental knowledge of e...

The Architect Within: Building a Child's Self-Esteem Brick by Brick:

- "Imagine a child, standing at the edge of a vast, unknown world, their eyes filled with a mixture of hope and fear. They long to explore, to create, to achieve, but a tiny voice inside whispers doubts, telling them they're not capable. That voice, the one that shapes their perception of themselves, can either be a gentle guide or a crippling critic. It's the voice of self-esteem, and it holds the power to either ignite their dreams or extinguish them before they even begin. What kind of architect are we helping them become – one of soaring confidence or one of crumbling doubt?" A child's world is a canvas of possibilities, a landscape where dreams take root and aspirations blossom. But navigating this world requires more than just talent or intelligence; it demands a sturdy foundation of self-esteem. That foundation, however, isn't built by external praise alone.  It's shaped from within, by a child's own perception of their ability to achieve in are...

How do children develop sense of self-discipline & self-control:

 - How do children develop sense of self-discipline & self-control, explanation with examples: Children develop self-discipline and self-control gradually over time, through a combination of internal development and external guidance.  It's a process, not an instant switch, and it requires patience and consistency. Here's how it generally works, with examples: 1. Modeling and Observation: Children learn by watching the adults and older children around them.   If they see adults practicing self-control (e.g., waiting patiently in line, managing their emotions calmly), they're more likely to adopt those behaviors. Example:  A parent consistently puts away their phone during dinner and engages in conversation. The child observes this and begins to do the same, even when tempted by their own device. 2. Consistent Boundaries and Expectations: Clear, age-appropriate rules and expectations provide a framework for children to understand what is acceptable behavior. ...

How does too much nagging effect children:

 - Imagine an 8-year-old girl named Lily is getting ready for school. Her mom is constantly reminding her: "Lily, have you brushed your teeth yet?" "Did you pack your lunch? Don't forget your water bottle!" "Hurry up, we're going to be late! Put on your shoes!" "Don't forget your homework!" Lily, feeling overwhelmed and rushed, may: Become distracted:  Forget what she was supposed to do and lose focus. Feel anxious:  Start to worry about making mistakes and disappointing her mom. Resist and argue:  Refuse to do things quickly, leading to a power struggle. Feel overwhelmed:  Feel like she can't do anything right and lose confidence in her ability to get ready for school. This constant pressure can make getting ready for school a stressful experience for Lily. Instead of nagging, her mom could try a more supportive approach, such as: Creating a visual checklist:  Help Lily create a checklist of things she needs to do in the morning,...

School Library suggested list for Indian schools for classes 6th to 10th standard:

  ##  - Book Suggestions for a School Library in India for classes 6-10. Here are some book suggestions, focusing on core subjects and Indian languages, to enrich your school library:  1.  Works by renowned Indian authors in various languages (Hindi, english, regional languages etc.) 2. Language Reference Books:       * Dictionaries (English, Hindi, regional languages)       * Thesauruses       * Grammar books     * English communication books        * Writing guides      * Essay writing books   3. Science:       * Biographies of famous scientists (e.g., Einstein, Curie)       * Books on specific scientific topics (e.g., astronomy, biology, chemistry) 4. Mathematics:       * Mathematical puzzles and brain teasers       * History of mathematics       * Books on the practical applications of mathematic...

Who is Sir Hajee Ismail Sait of Bangalore:

 - Fukhr-ut-Tojjar Sir Hajee Ismail Sait: A Legacy of Business and Philanthropy Fukhr-ut-Tojjar Sir Hajee Ismail Sait (1859-1934) was a prominent Indian businessman, philanthropist, and community leader who left an indelible mark on South India.  He was an Indian banker, businessman and community leader who served as a member of the Madras Legislative Council . Born in Periyakulam, Tamil Nadu, Sait's entrepreneurial journey began early, driven by a strong work ethic and a keen business acumen. A Business Empire Takes Shape Sait's first venture, the "English Warehouse," proved to be a resounding success, catering to the needs of the British community in Bangalore. His entrepreneurial spirit, however, did not limit him to a single venture. He diversified into a wide range of businesses, including mines, and manufacturing units. His astute business decisions saw him rise to become one of the wealthiest merchants in South India. Very quickly, Ismail Sait built on the succ...

Education system in Greece and Rome in ancient times: (In Urdu)-

یونان اور روم میں نظامِ تعلیم ڈاکٹر عرفان حبیب مغربی تعلیم کی تاریخ کا آغاز حضرت عیسیٰؑ سے سیکڑوں برس پہلے، یونانی قوم کی تعلیمی سرگرمیوں سے ہوتا ہے۔ اس تاریخ میں بیسویں صدی کی شروعات تک ایک تسلسل پایا جاتا ہے۔ ابتدائی دور میں یونانی شہری ریاستوں میں رہتے تھے۔ شروع ہی سے ان کے یہاں تعلیم کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی۔ اچھے شہری تیار کرنے کے لیے تعلیم ضروری تھی۔ یہ ریاستیں دشمنوں میں گھری ہوئی تھیں اور اکثر اندرونی خطروں کا بھی سامنا کرنا ہوتا تھا۔ اس لیے شہریوں کی اس طرح سے تربیت ضروری تھی کہ وہ اندرونی اور بیرونی خطروں کا اچھی طرح مقابلہ کر سکیں۔ اس یونانی سماج کی بنیاد، غلامی کے نظام پر تھی جس میں غلاموں کی تعداد آزاد شہریوں سے کہیں زیادہ تھی۔ تجارت اور ہاتھ سے کام کرنے کو معیوب سمجھا جاتا تھا اور یہ کام غلاموں سے لیے جاتے تھے، اس لیے شہریوں کو کوئی ٹیکنیکل تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ شہری ریاستیں کئی باتوں میں ایک دوسرے سے مختلف تھیں اور اس لیے ان کے تعلیم کے مقاصد بھی جدا جدا تھے مثلاً سپارٹا اور ایتھنز کے تعلیمی نظام بالکل الگ الگ تھے۔ سپارٹا کے شہری اپنے علاقے می...

What is phonics in english and understanding Hauna phonics system:

HAUNA PHONICS HAUNA phonics is a systematic, child centred approach to teaching literacy skills. Children are taught the sounds of the letters in a specific order. Group 1- s, a, m, n, i, p, t Group 2-r, d, c, k, o, g, l Group 3- b, u, f, h, j, e, q Group 4- v, w, x, y, z,  Group 5- ai, ee, ai, oa, ue Group 6- Ng, ch, th, ah, OO, oo Group 7-ou, oi, or, er, ar After completion of one group of letters, children are taught how to blend and read words. Words that do not follow the phonics principle are named as Comm. words or frequently used words. Children are taught four lists of Comm. words in H3. List 1 I, me, he, be, to, do, no List 2 We, was, has, is, his, so, us List 3 All, go, she, my, are, here, one List 4 The, them, there, those, this, those, that, then, there Click to see video of Sounds of phonics: Further reading: Understanding Phonics of English language: So, what exactly is phonics? Phonics invol...

ಪ್ರೊ. ಕೆ. ಎಸ್. ನಿಸಾರ್ ಅಹಮದ್ ರವರ ಜೀವನ-

- ಪ್ರೊ.  ಕೆ. ಎಸ್. ನಿಸಾರ್ ಅಹಮದ್ ಪ್ರೊ.ಕೆ.ಎಸ್.ನಿಸಾರ್ ಅಹಮದ್ (5 ಫೆಬ್ರುವರಿ 1936 - 3 ಮೇ 2020) ಕನ್ನಡದ ಪ್ರಮುಖ ಸಾಹಿತಿಗಳಾಗಿದ್ದರು. ಅವರ ಪೂರ್ಣ ಹೆಸರು 'ಕೊಕ್ಕರೆಹೊಸಳ್ಳಿ ಶೇಖಹೈದರ ನಿಸಾರ್ ಅಹಮದ್'. ಅವರು ಬರೆದ 'ಜೋಗದ ಸಿರಿ ಬೆಳಕಿನಲ್ಲಿ ತುಂಗೆಯ ತೆನೆ ಬಳುಕಿನಲ್ಲಿ' ಎಂಬ ಪದ್ಯವು ಬಹಳ ಜನಪ್ರಿಯವಾಗಿ ಅವರು ನಿತ್ಯೋತ್ಸವ ಕವಿಯೆಂದೂ ಕರೆಯಲ್ಪಡುತ್ತಿದ್ದರು. Image source: Online typing ಜೀವನ- ಪ್ರೊ. ನಿಸಾರ್ ಅಹಮದ್ ಬೆಂಗಳೂರು ಜಿಲ್ಲೆಯ ದೇವನಹಳ್ಳಿಯಲ್ಲಿ ಫೆಬ್ರುವರಿ ೫, ೧೯೩೬ ರಲ್ಲಿ ಜನಿಸಿದರು. ೧೯೫೯ ರಲ್ಲಿ ಭೂವಿಜ್ಞಾನದಲ್ಲಿ ಸ್ನಾತಕೋತ್ತರ ಪದವಿ ಪಡೆದರು. ೧೯೯೪ ರ ವರೆಗೆ ವಿವಿಧ ಸರಕಾರಿ ಕಾಲೇಜುಗಳಲ್ಲಿ ಅಧ್ಯಾಪಕ ಹಾಗು ಪ್ರಾಧ್ಯಾಪಕರಾಗಿ ಕೆಲಸ ಮಾಡಿ ನಿವೃತ್ತರಾದರು.             ಜನನ 5 ಫೆಬ್ರುವರಿ 1936 ದೇವನಹಳ್ಳಿ, ಮೈಸೂರು ಸಂಸ್ಥಾನ, ಬ್ರಿಟಿಷ್ ಇಂಡಿಯಾ              ಮರಣ 3 ಮೇ 2020 (ವಯಸ್ಸು 84)[೧] ಬೆಂಗಳೂರು ವೃತ್ತಿ ಸಾಹಿತಿ, ಪ್ರೊಫೆಸರ್ ಭಾಷೆ ಕನ್ನಡ ರಾಷ್ಟ್ರೀಯತೆ ಭಾರತ ಪ್ರಕಾರ/ಶೈಲಿ Fiction ಸಾಹಿತ್ಯ ಚಳುವಳಿ ನವ್ಯ ಕಾವ್ಯ ಪ್ರಮುಖ ಕೆಲಸಗಳು ಮನಸು ಗಾಂಧಿ ಬಜಾರು(1960) ನಿತ್ಯೋತ್ಸವ ಪ್ರಮುಖ ಪ್ರಶಸ್ತಿಗಳು ಪದ್ಮಶ್ರೀ (೨೦೦೮), ರಾಜ್ಯೋತ್ಸವ (೧೯೮೧) ಕೆಲವು ಸಾಹಿತ್ಯಗಳು : ನಿಸಾರ್ ಅಹಮದ್  ...